Back
گلگت بلتستان کی وادی یسین کی تہذیب بہت پرانی اور اس کا کلچر منفرد ہے۔ اس کی زبان بروشسکی اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کا دنیا کی کسی موجودہ یا سابق زبان سے تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں بروشسکی بولنے والے (بورش) لوگ پوری گلگت وادی بلکہ اردگرد کے کچھ علاقوں میں بھی رہتے تھے۔ آج کل بورش ہنزہ نگر اور یسین کی وادیوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ گلگت کے علاقوں یسین، غزر، پونیال اور اشقمن پر کھوار بولنے والے حکمرانوں کا اقتدار رہا، جس کے دوران چترال سے ان علاقوں کو کافی نقل مکانی بھی ہوئی۔ اس وجہ سے ان علاقوں کے کلچر پر چترالی اثرات بھی دیکھنے کوملتے ہیں۔ نیز ان علاقوں میں چترال کی زبان کھوار بھی بولی جاتی ہے۔ یسین کے کلچر میں موسمی تہواروں کا نمایاں مقام ہے۔ اس تحریر میں ان تہواروں کا ذکر ہے جو نئے سال کے آغاز میں منائی جاتی ہیں۔
یسین کے مقامی کیلینڈر کی رو سے نیا سال فروری میں شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اس وقت سردیوں کے آخر میں موسم بدلنے لگتا ہے۔ فروری کے اوائل کی کوئی تاریخ تہوار کے لیے مقرر کی جاتی ہے۔ اس روز گھروں میں مکوتی (چترال کا ݰوݰپ اور بدخشان کا سمنک) پکایا جاتا ہے۔ بچیان مکوتی میں سے کچھ مویشی خانے لے جا کر جانوروں کو کھلاتی ہیں۔ وہ تھوڑا سا مکوتی مویشی خانے کے ستون پر بھی ملتی ہیں۔ یہ ایک طرح کا نیک شگون ہے کہ آنے والا سال جانوروں کے لیے اچھا ہو۔ اس روز مرد جنگل میں جا کر کاشتکاری کے اوزاروں کے لیے لکڑی کاٹ کر لاتے ہیں۔ یہ نئے سال کے کاموں کے اغاز کی نشانی ہوتی ہے1۔
اس علاقے میں سردیاں طویل اور سخت ہوتی ہیں۔ ان مہینوں کے دوران کھیتی باڑی کا کسی قسم کا کام ممکن نہیں ہوتا۔ موسم بہار میں کھیتی باڑی کی پہلی سرگرمی بہاریہ جو اور گندم کی کاشت ہوتی ہے اور اس عمل کا آغاز ایک تہوار کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ تہوار کا آغاز علاقے کا حکمران (تھم) خود کھیت میں بیج ڈال کر اور تھوڑا سا ہل چلا کر کرتا ہے۔
یہ ایک بہت قدیم تہوار ہے جس کی جڑیں قدیم بروشال میں پیوست ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شن اور کھو لوگ اس علاقے میں نہیں آئے تھے اور پوری گلگت وادی بلکہ اس کے قریبی علاقوں میں بھی صرف بورش لوگ آباد تھے۔ اس کا ثبوت وہ روایتی بول ہیں جو تہوار کے موقع پر ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ بول جنہیں ہیماز کہتے ہیں، کچھ یوں ہوتے ہیں "تیلی تی تھمے بوینی می، عیش تھمے بوغاییا دوسی می، عیش ببلی گازے غیند یشے ہشھ نل نییا اسکل چے دیمیو" یعنی "تیلی تی تھم نے رسم تخم ریزی ادا کی اور عیش تھم نے اس کا نظارہ کیا۔ عیش ببلی گاز شہزادی ہل لے کر ان کے سامنے سے نکلی"۔ ان بولوں کے پیچھے کہانی کچھ یوں ہے:
قدیم بروشال میں عیش تھم نام کا ایک راجہ تھا۔ اس کی خوبصورت بیٹی عیش بوبلی گاز تھی جس سے ایک اور راجہ تیلی تھم شادی کرنا چاہتا تھا۔ پہلے تو عیش تھم نے انکار کر دیا۔ بہت اصرار کے بعد وہ راضی ہوا اوررخصتی تخم ریزی کے تہوار کے موقع پر مقرر ہوئی۔ تیلی تھم سے جب انتظار نہیں ہو سکا تو اس نے تخم ریزی کا تہوار موسم سرما کے وسط میں یعنی جنوری کے مہینے میں ہی منا ڈالا۔ تب سے جنوری کے مہینے کو "تھمو بوکس" یعنی راجہ کی رسم تخم ریزی کا مہینہ کہا جاتا ہے۔
اس تہوار کے موقع پر تخم ریزی کی رسم کے بعد کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں جن میں سر فہرست پولو ہے۔ پولو میچ سے پہلے شوارن دیخرچم (چترال میں جنالی تراݯیک کہتے ہیں) کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس کے معنی ہیں میدان کو چیرنا۔ سردیوں میں کئی مہینے پولو نہیں کھیلی جاتی تو خیال کیا جاتا ہے کہ اس دوران میدان کو خالی پا کر خبیث مخلوقات اس پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ شوارن دیخرچم کی رسم ان کو بھگانے کے لیے ادا کی جاتی ہے، تاکہ وہ کھیل کے دوران کسی کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ ہر سال مقامی حکمران کسی ایک شخص کو یہ رسم ادا کرنے کے لیے منتخب کرتا ہے۔ وہ پہلے اپنے گھر سے نکل کر حکمران کے ہاں جاتا ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے گھرانے کا کوئی بزرگ اسے قران شریف کے نیچے سے گزارتا ہے اور اس کے کندھوں پر نیک شگون کے لیے تھوڑا آٹا چھڑکتا ہے (کھوار کا "پتھاک ݯھریئک")2۔ حکمران کے ہاں اس شخص کو عمدہ لباس پہنایا جاتا ہے جس میں سفید شلوار قمیض، جوتے، پگڑی اور چپان شامل ہوتا ہے۔ پھر وہ شخص کوئی اچھا سا گھوڑا اس رسم کی ادائیگی کے لیے منتخب کرتا ہے اور اس پر سوار ہو کر شوارن جاتا ہے جہاں سب لوگ جمع ہوتے ہیں۔ وہ شخص حکمران کی دست بوسی کرنے کے بعد اس کی اجازت سے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور اسے پوری رفتار سے دوڑاتا ہوا میدان کے دوسرے سرے تک جاتا اور اسی طرح واپس آتا ہے۔ گھوڑے سے اتر کر وہ حکمران کے سامنے آتا ہے اور اس کی دست بوسی کرکے مبارکباد وصول کرتا ہے۔ اس کے بعد کھیل شروع ہوتا ہے جس کے اختتام پر موسیقی اور رقص کی محفل جمتی ہے۔
تہوار کی شام کو لوگ تختو ختان میں جمع ہوتے ہیں3۔ یہ منیچ یسین میں ایک بڑا روایتی گھر ہے جس میں کسی زمانے میں حکمران کی تخت نشینی کی رسم ادا ہوئی تھی۔ گھر کے مکین کو عمدہ لباس پہنا کر اسے دولہا بنایا جاتا ہے۔ وہ صنوبر کی شاخوں کا الاؤ جلا تا ہے اور اس میں آٹا پھینکتا ہے، جس کے شعلے چمنی سے نکلتے ہیں4۔ اس موقع پر وہ شخص ہیماز (نیک شگون کے مخصوص کلمات) بولتا ہے۔ اس موقع پر گھر میں کھانے کچھ چیزیں شرکاء کو پیش کی ہیں۔ کھانے کے بعد اجارو (مشعلبردار جلوس) نکلتا ہے۔ مشعل لکڑی کی لمبی کچھیوں کا گھٹا باندھ کر بنائے جاتے ہیں۔ ان کو بروشسکی میں گریکھی اور کھوار میں دوو کہتے ہیں۔ جلوس کے ساتھ گھڑ سوار بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کافی فاصلہ چل کر روشانوٹ (حکمران کے مکان) جاتے ہیں۔ وہاں رقص و موسیقی کی محفل ہوتی ہے اور شرکاء کی تواضع کھانوں سے کرکے انہیں رخصت کیا جاتا ہے۔
مقامی حکمران تو اب نہیں رہے ہیں، تاہم مرحوم راجہ غلام دستگیر کی اولاد نے اس روایت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ آج کل راجہ جہانزیب صاحب اس رسم کی ادائیگی کا اہتمام دھوم دھام سے کرتے ہیں۔
1۔ سال غیریئک کھوار اصطلاح ہے، بمعنی "سال تبدیل کرنا"۔ یہ تہوار چترال کے کچھ علاقوں میں بھی رائج رہا ہے، جسے پتھاک دیک بھی کہتے ہیں۔ چترال کے تہوار پر مزید
یہاں پڑھیے
2۔ کسی مہمان کا استقبال کرتے ہوئے اس کے کندھوں پر تھوڑا آٹا چھڑنے کی رسم چترال میں بھی رہی ہے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی خیال ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا تعلق بودھ بھکشؤں سے ہوگا جن کو بھیک میں آٹا دیا جاتا تھا اور یہ آٹا مقدس سمجھا جاتا تھا۔
3۔ ختان یا کھوار ختان گھر کا ایک وسیع کثیر المقاصد کمرہ ہوتا ہے جو ہندوکش قرارم کی وادیوں سے لے کر پامیر تک رائج ہے۔ چترال میں اس طرز تعمیر کو زیادہ ترقی دی گئی ہے اس لیے اسے کھوار ختان بھی کہتے ہیں۔
4۔ یہاں صنوبر سے مراد Juniper کا درخت ہے جو کھوار میں ساروز کہلاتا ہے۔ اس درخت کے ساتھ قراقرم ہندوکش خطے کے بیشتر لوگوں کے اعتقادات اور اعمال وابستہ ہیں۔