Back
چترال کی غیر مادی ثقافت میں موسیقی اور مادی ثقافت میں آلات موسیقی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اس وقت چترال اور اس کے قریبی علاقوں میں موسیقی کے بہت سے آلات استعمال ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان میں میں نئے آلات کا اضافہ ہوتا ہے اور کچھ الات متروک ہوتے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں آلات موسیقی کی تینوں بنیادی قسموں percussion instruments, string instrument, wind instruments سے تعلق رکھنے والے آلات کا یہاں رواج رہا ہے۔ ان آلات میں کچھ بینڈ کی صورت میں بجائے جاتے ہیں جب کہ باقی اکیلے۔ ڈھول سرنا اور دمامے ہمیشہ ایک ساتھ بجائے جاتے ہیں جبکہ باقی الات اکثر اکیلے اور کبھی کبھار کسی دوسرے ساز کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ آلات ساتھ گلوکار کے ساتھ دینے کے لیے بجائے جاتے ہیں جبکہ باقی صرف سازوں کی موسیقی میں استعمال ہوتے ہیں۔ جو آلات سازوں کی موسیقی میں استعمال ہوتےہیں، ان کی دھن بھی عموماً کسی گیت سے اخذ کی جاتی ہے۔
زیر نظر تحریر میں ہم ماضی اور حال میں یہاں استعمال ہونے والے آلات موسیقی کا تذکرہ کریں گے۔
اس خطے کا سب سے پرانا آلہ موسیقی ہے۔ گلگت، کوہستانات، نورستان، کنڑ وادی اور جنوبی چترال کے گروہوں میں اب بھی یہ بنیادی آلہ موسیقی ہے۔ شمال میں وخی لوگ بھی بانسری بجاتے ہیں۔ گلگت میں بانسری کے پرانا آلہ موسیقی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ دایال (شامان) کے لیے ڈھول کے ساتھ سرنا نہیں بلکہ بانسری بجائی جاتی ہے۔ کلاش لوگوں میں اب بھی یہ چھوٹے ڈھول کے ساتھ واحد آلہ موسیقی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کھو لوگوں میں بھی شروع میں بانسری موسیقی کا بنیادی آلہ رہا ہوگا۔ سرنا بجانے والے استاد بانسری بھی بجاتے ہیں اور موسیقی کی محدود مجلسوں میں بعض اوقات ڈھول اور دمامہ کے ساتھ بانسری بجائی جاتی ہے۔ بانسری پر گلوکار کا ساتھ دینے کا رواج گلگت اور چترال میں حدید زمانے میں شروع ہوا تاہم چترال میں یہ زیادہ مقبول نہ ہو سکا۔ کھو لوگوں میں لڑکیاں مال مویشی چراتے ہوئے بانسری بجاتی تھیں۔ بانسری وہ خود تیلی (بید) کی نرم شاخ کی چھال اتار کر بناتیں۔ موسم بہار میں راہ چلتے ہوئی اس بانسری کی آواز سنائی دیتی۔ اب بچیوں کے سکول جانے سے یہ آواز بند ہو چکی ہے۔ کھو لوگوں کے ہاں اب عام موسیقی کی محفلوں مِیں بانسری شاذ و نادر ہی بجائی جاتی ہے۔
کلاش لوگ اپنے تہواروں میں بانسری کے ساتھ یا الگ سے دو قسم کےڈھول بجاتےہیں۔ ان میں سے ایک چھوٹی ڈھولکی سی ہوتی ہے جسے کلاشہ میں واچ اور کھوار میں ٹمبوروک کہتے ہیں۔ دوسرا نسبتاً بڑا ڈھول ہے جو گلگت بلتسان اور چترال میں سرنا اور دمامہ کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ اس بڑے ڈھول کو کلاشہ میں ڈاو کہتے ہیں۔ روایتی کلاش رقص کے لیے موقع کی مناسبت سے ان میں سے کوئی ایک بجایاجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانے میں ٹمبوروک کھو لوگوں اور علاقے کے دیگر گروہوں میں بھی استعمال ہوتا تھی۔
یہ آلہ بدخشان میں رائج رہا ہے اور قوی امکان یہی ہے کہ وہیں سے چترال میں آیا ہے۔ دف گانے کے ساتھ تال کے لیے بجائی جاتی ہے اور چند دھائیاں پہلے تک رقص و موسیقی کی محفلوں میں یہ واحد ساز ہوتا تھا۔ دف ہر کوئی بجا سکتا ہے، خصوصاً پہلے زمانے میں ہرگانے والا سنگت کے لیے دف خود بجاتا تھا۔ دف بجانے کا کوئی پیشہ نہیں ہوتا نہ یہ کسی ذات یا خاندان سے مخصوص ہوتا ہے۔ چھوٹے دف کا رواج چترال کی جنوبی وادیوں کے گروہوں میں رہا ہے۔ نورستانیوں کے ہاں چھوٹے سائز کے دف استعمال ہوتے ہیں۔تاہم بڑا دف بھی جنوبی چترال کے گروہوں میں کسی قدر استعمال ہوا ہے اور دمیل وادی میں اب بھی اس کا رواج ہے۔
دف بنانے کے لیے ساروز (Juniper) کی لکڑی کے کچھے کو موڑ کر اس کے اوپر کھال منڈھی جاتی ہے۔
ستاربھی وسط ایشیاء سے آیا ہے اور چترال میں اس کی شکل وصورت میں کافی تبدیلی ہوئی ہے۔ ستار کی چترال میں آمد زیادہ پرانی بات معلوم نہیں ہوتی۔ تاہم سیر کے گیت"یار من ہمین" میں ستار کا ذکر موجود ہے، جو اٹھارویں صدی کے اواخر سے تعلق رکھتا ہے۔ ستار کو سنوغر اور میراگرام سے علاقے سے خصوصی نسبت رہی ہے۔ یہاں کے لوگ نہ صرف اس کے بنانے میں مہارت رکھتے آئے ہیں بلکہ ستار بجانے کے فن میں بھی اس علاقے کے شرفاء استاد مانے جاتے ہیں1۔ ستار عموماً اکیلے بجایا جاتا ہے۔ اس کا گانے کے ساتھ بجانے کا رواج نسبتاً نیا ہے۔ گانے کے ساتھ بجاتے وقت اس کے ساتھ تال کے لیے کوئی اور آلہ بجایا جاتا ہے۔ ستار پہلے شرفاء بجایا کرتے تھے اور صرف اپنی یا اپنے دوستوں یا حکمرانوں کی تفریح کے لیے۔ اس وجہ سے ماضی قریب تک ستار بجانے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی تھی اور یہ مشکل فن سمجھا جاتا تھا۔ ستار محدود مجلس میں بجانے کی چیز ہے اور موسیقی کی بڑی مجلس میں اس کا استعمال ماضی میں نہیں ہوتا تھا۔ ستار میں کھوار کے مقبول گانوں کی دھنیں بجائی جاتی ہیں۔ کچھ دھنیں ایسی ہیں جن کے بول معلوم نہیں۔ ایسی دھنیں زیادہ تر دوسری زبانوں جیسے شنا اور پشتو کے ہیں۔ ڈھول سرنا پر بجائی جانے والی دھنیں بھی ستار پر بجائی جاتی ہیں جیسے غاڑ وار (پولو کی دھن)، ژانگ وار (جنگی دھن) وغیرہ۔
ستار چترال کے علاوہ گلگت اور سوات کوہستان میں بھی رائج ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ ان علاقوں میں یہ آلہ چترال سے گیا ہے۔ ستار کو پشتونوں نے بھی اپنا ہے اور یہ ان میں چترالی ستار کے نام سے مقبول آلہ ہے۔ پشتونوں میں یہ گانے کے ساتھ نہیں بلکہ اکیلا بجایا جاتا ہے۔
اس وقت چترال اور گلگت بلتسان میں سب سے مقبول موسیقی ہے۔ یہ موسیقی کی بڑی محفلوں میں بجائے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ رقص ہوتا ہے۔ پولو کے کھیل کے ساتھ ڈھول سرنا تقریباً لازم ہو چکا ہے۔ کھیل کے دوران استاد ایک طرف بیٹھ کر کھیل کی صورت حال کے مطابق دھنیں بجاتے رہتے ہیں۔ کھیل کے اختتام پر تماشائی اور کھلاڑی ایک دائرے میں جمع ہوتے ہیں۔ موسیقی بجائی جاتی ہے اور ہارنے والی ٹیم اس پر رقص کرتی ہے۔ آج کل عموماً جیتنے والے کھلاڑی رقص کرتے ہیں۔
اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ دمامہ اور سرنا چترال میں گلگت کی طرف آئے ہیں۔ چترال کے جنوب میں غیر کھو گروہوں، نورستان، کنڑ کے داردی گروہوں نیز کوہستانات میں یہ کبھی رائج نہیں ہو سکے۔ گلگت کی طرف اس کا رواج نسبتاً زیادہ پھیلا ہوا ہے اور تقریباً تمام شنا بولنے والے علاقوں نیز ہنزہ نگر اور پونیال، غزر اور یسین میں یہ رائج ہے۔ بنیادی طور پر اس موسیقی کا تعلق حکمرانوں کے دربار سے رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں کشمیر کے غلبے کے نتیجے میں مقامی حکومتیں ختم ہو گئیں تو عام لوگوں نے اس روایت کو قائم رکھا۔ چترال میں ریاست قریبی زمانے تک قائم رہی اس لیے یہاں ڈھول سرنا کی موسیقی حکمرانوں کے ساتھ ہی منسلک رہی۔ دار الحکومت اور علاقائی مراکز میں اس فن کے استادوں کے کچھ خاندان موجود ہوتے تھے جو سرکاری ڈیوٹی کے طور پر یہ کام کرتے2۔
ریاستی دور ختم ہونے کے بعد چترال سکاوٹس اور پولیس نے اس موسیقی کو زندہ رکھا۔ سکاوٹس میں استادوں کے خاندانوں سے باہر عام لوگوں کو اس بینڈ میں شامل کیا گیا جو ریٹائرمنٹ کے بعد پرائیویٹ طور پر کام کرنے لگے۔ بعد میں این جی اوز نے بھی اس موسیقی کو فروع دینے میں کردار ادا کیا۔ اب چترال کے مختلف حصوں میں کئی بینڈ کام کر رہے ہیں جو مقامی لوگوں پر مشتمل ہیں۔
گلگت میں ڈھول سرنا بجانے والے ایک مخصوص نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اپنی الگ زبان ہوتی تھی ڈوماکی کے نام سےجو ہنزہ میں محدود طور پر اب بھی بولی جاتی ہے۔ غالباً یہ لوگ کشمیر سے لداخ اوربلتستان کے راستے گلگت آئے تھے۔ گلگت میں اس موسیقی کا رواج اور ڈوماکی گروہ کی آمد ممکنہ طور پر گلگت پر بلتسانی حکمرانوں علی شاہ اور مراد خان وغیرہ کے حملوں اور قبضے کے ساتھ ہوا۔ ان کے حملوں کے بارے میں آنے والی روایات میں بلتسانی حملہ آوروں کے بڑے بڑے دمامے بجانے اور ان کی آواز سے گلگت کے باشندوں کے خوفزدہ ہونے کی کہانی ہے۔ گلگت اور چترال میں موسیقی پر بلتستانی اثرات کا ایک ثبوت وہ چند دھنیں ہیں جو بلتسانی حملہ آور حکمرانوں مراد خان، شیر شاہ اور علی شاہ سے منسوب ہیں۔ ان کی اصل غالباً وہ گیت ہیں جو شنا زبان میں بلتستانی حملوں کے بارے میں گائےگئے تھے3۔
ڈھول سرنا روایتی طور پرسازوں کی موسیقی کے طور پر بجائے جاتے ہیں۔ اس موسیقی کی مجلس میں کبھی کبھار کو کوئی فنکار گانے کا مظاہرہ کرتا تو اس دوران ڈھول سرنا نہیں بجاتے۔ جب گلوکار گانا ختم کرتا یا درمیان میں وقفہ لیتا تو آلات میں اسی گانے کی دھن بجائی جاتی جس پر عموماً گانے والا ہی رقص کرتا۔
یہ رباب کی ایک قسم ہے جو مروجہ پشتون رباب سے چھوٹی اور شکل میں مختلف ہوتی ہے۔ بظاہر یہ چیز بدخشان اور پامیر سے چترال میں آئی ہے۔ یہاں اس کا استعمال اسمعیلی متصوفانہ موسیقی میں ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ناصر خسرو یا اسی سلسلے کے دیگر شاعروں کا فارسی کلام پڑھا جاتا ہے۔ کھوار شاعری کو اس آلہ موسیقی کے ساتھ گانے کی کوئی روایت موجود نہیں۔
قریبی زمانے چترال کی موسیقی میں نئے آلات کی شمولیت کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ آج کل کچھ فنکار پشتون رباب اور الیکٹرانک کی بورڈ کے استعمال کو فروع دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایک آدھ مثال ہارمونیم کے استعمال کی بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم ان کا استعمال عام نہیں ہو سکا۔ مقامی فوجی یونٹ اور پولیس کے بینڈ میں جن لوگوں کو بھرتی کیا گیا ان میں سے کچھ سرنا بجانے والے روایتی فنکار تھے۔ ان فنکاروں میں سے کچھ نے بیگ پائیپ پرمقامی دھنوں کو بجانے کے تجربے کیے لیکن یہ عام نہ ہو سکا۔ سوات کوہستان میں بیگ پائیپ سے ملتا جلتا آلہ مقامی طور پر بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں کچھ کھوار گانے والوں نے پشاور کے ریکارڈنگ سٹوڈیوز سے پشتو موسیقی میں استعمال ہونے والے سازوں کے ساتھ گانے ریکارڈ کرائے ہیں۔ اسی قسم کے سٹوڈیوز گلگت کی طرف بھی بنے ہیں جن میں کھوار گانے ریکارڈ ہوتے ہیں۔
داردی گروہوں کی زبانوں میں کئی گیت ایسے ہیں جو بغیر سازوں کے گائے جاتے ہیں۔ کھوار میں شادی کی بارات میں گایا جانے والا گیت لوک ژور، شکاری کا گیت غورو اور پھستوک رقص کے ساتھ گایے جانے والے بول بغیر سازوں کی سنگت کے گایے جاتے ہیں۔ ان سے ملتے جلتے گیت دیگر داردی زبانوں میں بھی رائج ہیں۔ کھوار شاعری کی ایک صنف اشورجان کہلاتی ہے جو بنیادی طور پر بغیرسازوں کے گایا جانے والا گیت ہے۔ تاہم اب اسے ستار کے ساتھ گایا جاتا ہے یا اس کی دھن ستار پر بجائی جاتی ہے۔ اشور جان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ اصل میں زنانہ صنف ہے اور عورتوں کی مجلسوں میں گائی جاتی رہی ہے۔
1۔ شیر ولی خان اسیر کے مطابق: ستار کی چترال آمد کی معلوم تاریخ ڈیڑھ پونے دو سو سال ہے ۔ ممکن ہے ستار چترال میں بدخشان سے رئیس حکمرانوں کے ساتھ آیا ہو۔ چترال میں ستار سازی کا کام بیشتر سنوغر میں ہوتا رہا ہے ۔ حاتم بیگ بدخشی کے پوتے محمد آمین نے ستار سازی کا آغاز کیا تھا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے رحمت داد، پوتے خوش قدم اور پڑپوتے محمد دبیر نے یہ کام جاری رکھا۔ یعنی چار پشتوں سے اس خاندان میں ستار سازی کا کام جاری تھا۔ شیر ولی خان اسیر کے مطابق محمد دبیر 1985 میں زندہ تھا۔ (شیر ولی خان اسیر، ذاتی رابطہ)
2۔ شہزادہ تنویر الملک کے مطابق: ان میں سے چترال قلعے کے ساتھ دو خاندان منسلک تھے۔ ان میں سے ایک گلگت کی طرف سے آئی تھی اور دوسرا خاندان دیر سے آئے ہوئے پشتونوں کا۔ معلوم ہوتا ہے کہ گلگت سے ایا ہوا خاندان وہاں کے پرانے استادوں کے طبقے سے تھا جب پشتون علاقے سے آنے والا خاندان چترال آنے سے پہلے اس پیشے سے منسلک نہیں تھا بلکہ یہاں سے ان کو گلگت بھیج کر تربیت دلوائی گئی تھی۔ ان کے علاوہ تورکھو ، مستوج اور شغور کے قلعوں کے ساتھ ایک ایک خاندان استادوں کا منسلک تھا۔ موڑکھو اور دروش کے قلعوں کے ساتھ بھی استاد منسلک تھے لیکن وہ بعد میں دوسری جگہ منتقل ہوئے۔ ان مقامات پر کام کرنے کے لیے سالانہ چترال سے استاد بھیجے جاتے تھے۔ قلعوں سے باہر صرف برینس گاؤں میں استاد وں کا خاندان رہتا تھا۔ حکمرانوں کےساتھ مخصوص ہونے کی بناء پر ڈھول سرنا کی موسیقی چترال میں عوامی حیثیت اختیار نہ کر سکی۔ عام لوگ نہ تو اس کو سیکھتے اور نہ کبھی کوئی پرائیویٹ بینڈ وجود میں آیا۔ ریاستی دور میں ڈھول سرنا بجانے والے گروپ قلعے میں مستقل ڈیوٹی دیتے تھے۔ حکمران اگر اگلے دن کہیں سفر پر جانے کا ارداہ کرتا یا اگلے دن پولو کھیلنے کا پروگرام ہوتا تو اس کے اعلان کے لیے موقع کی مناسبت سے مخصوص دھن بجاتے۔ اسی طرح سفر پر روانہ ہوتے ہوئے اور پولو کے لیے جاتے ہوئے بجانے کی الگ الگ دھنیں تھیں۔ پولو کھیل کے ساتھ ڈھول سرنا کی موسیقی لازم ہے۔ کھیل کے آغاز سے اختتام تک موسیقی بجتی رہتی ہے۔ کوئی ٹیم گول کرتی ہے اور گول کرنے والا کھلاڑی گیند اچھال کر (تھمپوقؐ) مارنے کے لیے گھوڑا دوڑاتا ہے تو مخصوص دھن بجائی جاتی ہے۔پہلے زمانے میں پولو کھیل کے لیے شہرت رکھنے والے کچھ خاندانوں کی اپنی دھنیں مختص تھیں۔ (شہزادہ تنویر الملک، ذاتی رابطہ)
موسیقی کے ساتھ ڈھول سرنا کے استاد ضمنی طور پر بچوں کے ختنے بھی کرتے تھے۔ چونکہ چترال میں پیشہ ور نائی نہیں ہوتے تھے اس لیے ختنہ کرنے کا کام انہیں لوگوں نے سنبھال لیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ریاست کے متلف علاقے استادوں کے خاندانوں میں تقسیم کیے گئے تھے اور یہ لوگ موسم خزاں میں اپنے متعلقہ علاقے کا دورہ کرکے ختنے کرتے اور اس موقع پر ناچ گانے کی مجلسیں بھی منعقد ہوتیں۔
3۔ چترال میں موسیقی سے متعلق ایک افسانوی کہانی میں آتا ہے کہ کھوار موسیقی کی چار اولیں دھنیں، شاہ مراد، علی شیر، بیرنگی اور کروئی کُمورو کہلاتی تھیں۔ چترال میں ان گیتوں کی خالی دھنیں بجائی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی بول موجود نہیں۔ ان میں سے اول الذکر دو تو یقینی طور پر بلتستانی فاتحین کے بارے میں گائے گئے گیت ہیں۔ بیرنگی بھی ایک قدیم شنا لوک گیت ہے، تاہم کروئی کُمورو(گوری لڑکی) شاید چترال ہی کا کوئی گیت ہوگا جس کے بول بھلا دیے گئے ہوں۔