Back

چترال میں پولو کی روایت

صلاح الدین صالح
04.06.2024

پولو باد شاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا باد شاہ ہے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ اسے جنگی تیاری کے طور پر کھیلتے تھے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں کی ریاستوں میں یہ کھیل نہایت قدیم زمانے سے کھیلا جاتا رہا ہے۔ اسے اسی علاقے سے دریافت کرکے انگریزوں نے باقی دنیا میں پھیلایا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پولو بلتی زبان میں گیند کو کہتے ہیں۔ انگریزوں نے اس کھیل کے لیے نئے قوانین بنا کر اس کی شکل کسی قدر تبدیل کردی، لیکن شمالی پاکستان (گلگت، بلتستان اور چترال) کے لوگ اب بھی یہ کھیل روایتی انداز میں کھیلتے ہیں۔ اس انداز کو دوسرے لوگ فری سٹائل پولو کہتے ہیں لیکن فری سٹائل کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے اصول اور ضوابط نہیں ہوتے۔ یہاں کے کھیل کے اپنے اصول اور ضوابط ہیں جو انگریزوں نے اپنے ہاں لے جا کر تبدیل کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کھیل کے ساتھ مقامی طور پر مخصوص رسومات اور دیگر تفریحات بھی لازمی حصے کے طور پر ہیں جو اس کی دلچسپی کو بڑھا دیتے ہیں۔

چترال میں پولو کے کھیل کو 'استور غاڑ' کہتے ہیں۔ ریاستی دور میں یہاں اس کھیل کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہے اور بیشتر مقابلے سرکاری طور پر منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔ چترال کے ہر بڑے گاؤں میں پولو کا میدان موجود ہوتا تھا جس پر ریاست کے مقامی حاکموں اور اہلکاروں کی نگرانی مین کھیل کے مقابلے ہوتے۔ کھیل میں حکمران، امراء اور عام عوام سب شریک ہوتے اور اس میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ چونکہ پرانے زمانے بہت سے لوگ ذاتی سواری کے لیے گھوڑے پالتے تھے، اور یہی گھوڑے کھیل میں بھی استعمال ہوتے تھے۔ چناچہ کھلاریوں کی تعدار میں کبھی کمی نہیں آئی۔ جدید دور میں سواری کے لیے گھوڑے پالنے کی ضرورت ختم ہو چکی ہے اور گھوڑے صرف پولو کے لیے پالے جاتے ہیں، اس لیے یہ ایک بہت مہنگا شوق بن چکا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی گھوڑے رکھتے ہیں اور ان سے کھیل میدان آباد ہیں۔

راقم نے چترال کا ریاستی زمانہ نہیں دیکھا ہے، تاہم ستر کی دہائی سے چترال جنالی (پولو گرانڈ) میں پولو دیکھتا رہا ہوں اور اس کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں۔

اُن دنوں پولو کے مقابلے ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ ہر سال 23 مارچ کو پولو کی سرگرمیوں کا آغاز ٹاؤن ہال میں ایک تقریب سے ہوتا جس میں کھلاڑیوں کے علاوہ معززین علاقہ اور سرکاری افسران شامل ہوتے۔ ڈپٹی کمشنر کے مختصرخطاب کےبعد ریفرشمنٹ ہوتی اور پھر کھلاڑی گھوڑوں پر سوار ہوکر جلوس کی شکل میں جنالی روانہ ہوتے۔ چترال کی مشہور شخصیت اور پولو کے کوچ صوبیدار محبوب عالم خان روایتی چترالی لباس میں ملبوس اور سفید موغیکان ٹوپی میں سرخ گلاب کا پھول لگائے، گھوڑے پر سوار جلوس کی قیادت کرتے۔ جلوس کے سامنے چترال پولیس کی بینڈ پارٹی مخصوص دھنیں بجاتے ہوئے اور پیچھے تماشائیوں کا ہجوم پولو گراونڈ کی طرف پوری شان وشوکت سے روانہ ہوتے۔ جلوس کے جنالی پہنچنے سے پہلے تماشائی وہاں پہنچ کر بیٹھ چکے چکے ہوتے۔ معززین اور افسران چبوترے پر کرسیوں میں رونق افروز ہوتے۔

اکثر پانچ پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل چار ٹیمیں بن جاتیں، جن کے درمیاں دو میچ ہوتے۔ چترال کے مشہور شہنائی نواز استاذ اجدبارخان اور اس کے ساتھی مقابلوں کے دوران مخصوص دھنیں بجا کر کھلاڑیوں کو جوش دلاتے اور تماشائیوں کا جی خوش کرتے۔ کسی مخصوص دھن پر صوبیدارمحبوب عالم خان، صوبیدار دوستی خان یا حاجی بلور خان بہ آواز بلند انہیں داد دیتے۔

ان افتتاحی مقابلوں کے بعد انفرادی میچ ہر چند دن بعد ہوتے رہتے، تا آنکہ مئی میں مقامی ٹورنمنٹ ہوتا جس میں تحصیل چترال کی ٹیمیں حصہ لیتیں۔ ان مقابلوں کے اختتام پر جون میں ضلعی مقابلے منعقد ہوتے جن میں چترال کے تمام حصوں سے ٹیمیں حصہ لیتیں۔ ان میں قابل ذکر چویئچ، مستوج، بونی، تورکھو، موڑکھو، کوشٹ، لون گہکیر، ریشن، اویر، پھستی، برینس، کریم آباد، گرم چشمہ، زرگراندہ، ژانگ بازار، چترال سکاوٹس کی ٹیمیں ہوتیں۔ ضلعی مقابلوں کے بعد گرمیوں میں پولو کا سلسلہ رک جاتا اور بہت سے لوگ اپنے گھوڑے بلند پہاڑی چراگاہوں (غاری) میں چھوڑ آتے۔ اس دوران جنالی کی دیکھ بھال کا کام ہوتا اور پانی دے کر اس کی گھاس بحال کر دی جاتی۔

14 اگست کی تقریبات کے ساتھ جشن چترال کا میلہ شروع ہوتا۔ اس میلے کے دوران پولو کے علاوہ دیگر جدید اور روایتی کھیلوں کے مقابلے ہوتے۔ راتوں کو موسیقی کی مجلسیں ہوتیں جن میں پورے ضلع سے فنکار حصہ لیتے۔ مشہور مزاحیہ فنکاران عبد الستار چپاڑی، غلام حسین المعروف سوکھا استاذ برینس، عبدلغفار، عبدالجبار المعروف جوکیر ایون اپنے فن کا مظاہرہ کرکے لوگوں کوتفریح اور ہسنے کا موقع فراہم کرتے۔

چترال میں اُن دنوں عام طور پر بدخشی نسل کے گھوڑے (تاژیان) پالے جاتے تھے جو قدوقامت میں آج کل کے پنجاب خصوصاً سرگودھا کے سٹڈ کے گھوڑوں سے قد میں چھوٹے لیکن سخت جان ہوتے تھے۔

70 کی دہائی میں ٹورنامنٹ کی کوئی دو یا تیں ٹیمں فیوڑٹ ہوتیں جیسے ژانگ بازار، چترال سکاوٹس، گرم چشمہ، اویر وغیرہ۔ ایک لمبے عرصے تک ژانگ بازار ٹیم ناقابل شکست رہی۔ پھر بعد میں سب ڈیویژن مستوج کی ٹیم بنی تو کئی سال وہ فاتح رہی۔ اسی طرح چترال پولیس کی بھی مضبوط ٹیم بنی۔ موجودہ زمانے میں چترال سکاوٹس کی ٹیم عموماً فاتح رہتی ہے۔ بہت عرصے بعد اس سال ایک نئی ٹیم نے فائنل میں چترال سکاوٹس کو شکست دے کر اس تسلسل کو توڑا ہے۔

مقابلوں کے اہم میچوں خصوصاً سیمی فائنل اور فائنل میں تماشائیوں کی زبردست دلچسپی ہوتی۔ تاہم دوسرے میچوں کو بھی لوگ خوب انجوائے کرتے۔ کچھ کھلاڑی کھیل میں تو ماہر نہیں ہوتے لیکن اپنی وضع قطع اور حرکات سے تماشائیوں کے لیے تفنن طبع کا سامان فراہم کرتے۔ اس طرح کھلاڑیوں کی آپس میں نوک جھونک بھی لوگوں کی تفریح کا باعث ہوتی۔ اس طرح یہ مقابلے کھیل سے ہٹ کر بھی تفریح اور سماجی رابطوں کا ذریعہ ہوتے تھے۔

( شش ماہی رسالہ کھوار میں شائع ہوا)

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com