Back

افعان مہاجرین کی آمد کےچترالی معاشرے پراثرات

فرید احمد رضا
08.05.2024

1970 کی دھائی کے آواخر میں افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوگئی جس سے فایدہ اٹھا کر سویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ اس مداخلت کے بعد افغانستان میں مقامی لوگوں کی طرف سے سویت افواج کی مزاحمت شروع ہوئی اور اس مزاحمت کو بین لاقوامی حمایت حاصل ہو گئی۔ اس طرح جو طویل جنگ لڑی گئی اس کے دوران لاکھوں افغان شہریوں نے اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا۔ ان لوگوں کی بھاری تعداد کو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبرختونخوا) کے مخلتف حصوں اور قبائلی علاقوں میں قائم کیمپوں میں رکھا گیا۔ مہاجرین کی ایک اچھی خاصی تعداد مختلف وجوہات کی بناء پر کیمپوں سے باہر مقامی آبادیوں کے بیچ مکانات کرائے پر لے کر بھی رہنے لگی۔ کیمپوں میں رہنے والے مہاجرین بھی کاروبار، مزدوری اور ضروریات کے حصول کے لیے مقامی آبادیوں میں آتے جاتے رہے۔ تقریباً نصف صدی سے افغان لوگ اس علاقے کے لوگوں گھل مل کر رہ رہے ہیں جس کا افغانوں اور پاکستانیوں دونوں کے معاشرے پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔

چترال ان علاقوں میں سے ہے جو افغان سرحد سے متصل ہیں، اس لیے یہاں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر رہی۔ چترال ایک کم آبادی والا علاقہ ہے اور اس لحاظ سے یہاں کی آبادی میں افغان مہاجرین کا تناسب کسی اور علاقے سے زیادہ رہی۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ چترالی معاشرے پر افغان مہاجرین کے اثرات بھی نسبتاً زیادہ رہے۔

چترال میں آنے والے افغان مہاجرین کا تعلق بدخشان، واخان، پنجشیر، نورستان اور کنڑ وادی سے تھا۔ ان میں اکثریت فارسی بولنے والے تھے۔ ان کے علاوہ وخی، نورستانی، پشتو اور گواربتی بولنے والے بھی کافی تعداد میں چترال میں آئے۔ یہ لوگ بروغل، دوراہ (شاہ سلیم)، شوال، ارسون اور ارندو کے راستے آتے جاتے رہے۔ شاہ سلیم اور ارندو کے راستوں کو موٹر گاڑیوں کے قابل بنایا گیا تھا جب کہ باقی راستوں سے پیدل سفر ہوتا رہا۔ یو این او کی ایک رپورٹ کے مطابق چترال میں رہائش پزیر ان مہاجرین کی تعداد 40000 سے زیادہ تھی۔ چترال کے اندر ان لوگوں کے لیے عارضی کیمپ سین لشٹ، دولوموچ، اورغوچ، جوٹی لشٹ، کیسو، سویر، کلکٹک اور اراندو میں بنائے گئے تھے۔ چترال میں موجود ان افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود نہیں رکھا گیا تھا بلکہ وہ آسانی کے ساتھ ادھر ادھر آجا سکتے تھے۔

اس عمل کے دوران افغان مہاجرین اور مقامی آبادی کو گھلنے ملنے کا موقع ملا۔ اس سے دو طرفہ طور پر ثقافتی تبادلہ ہوا اور دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے اثرات قبول کیے۔ یہاں پر ان میں سے کچھ اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس ہجرت کے نتیجے میں دونوں طرف کے لوگوں پر پڑے۔

خوراک

چترال کے لوگ چاول کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اور چاول بغیر مصالحوں کے سادہ پکاتے ہیں۔ افغانوں نے یہاں کابلی پلاؤ متعارف کرایا جو بہت مقبول ہوا۔ شروع میں یہ افغانوں کے ہوٹلوں میں دستیاب ہوتا تھا لیکن بعد میں مقامی لوگوں نے اس کو اپنا لیا۔ اب یہاں کے تقریباً تمام ہوٹلوں میں بنیادی خوراک یہی ہے۔ اس کے علاوہ تقریبات میں بھی اس کا رواج ہو چکا ہے۔

منتو، جسے مقامی لوگ منتوق کہتے ہیں، وسط ایشیائی خوراک ہے۔ اسے بدخشانی مہاجرین اپنے ساتھ لے آئے اور یہاں رواج دیا۔ یہ سموسے کی طرح ہوتا ہے لیکن تیل میں تلنے کی بجائے بھاپ پر پکایا جاتا ہے۔ چترال میں یہ فاسٹ فوڈ کے طور پر بہت مقبول ہے۔ بازار میں اس کے فروخت کرنے والے اب بھی افغانی ہیں۔

مہاجرین کے آنے سے پہلے بازار میں چند ہوٹلوں پر تنور لگے تھے جن پر وہ اپنی ضرورت کے مطابق روٹیاں بناتے۔ گھروں مِں لوگ اپنے روایتی طریقے پر روٹیاں توے پر بناتے اور تندوری نان کا رواج نہیں تھا۔ افغانوں نے یہاں جگہ جگہ تندور لگا کر افغانی نان کو رواج دیا اور اب یہ مقامی خوراک کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔

افغانوں نے قہوے کو یہاں رواج دیا جس کی مقامی لوگوں کو عادت نہیں تھی۔ پہلے قہوہ صرف بیماروں کو پلائی جاتی تھی لیکن اب یہ عام استعمال ہوتا ہے۔

نشست و برخاست

افغانوں نے یہاں کھانے کے جو ہوٹل بنائے ان میں تختوں پر قالین بچھا کر فرشی نشست کو رواج دیا۔ اس سے پہلے یہاں ہوٹلوں میں میزوں پر کھانے کا رواج تھا۔ اب اکثر طعام گاہوں میں فرشی نشست ہی رائج ہو چکی ہے۔

بدخشانی مہاجرین نے یہاں صندلی سسٹم متعارف کرایا۔ سردیوں میں ایک میز کے نیچے انگاروں کی انگیٹھی رکھ کر اوپر لحاف ڈال دیتے ہیں۔ میز کے گرد بیٹھنے والے پاؤں لحاف کے اندر ڈال کر بیٹھتے ہیں تو جسم خوب گرم ہوتا ہے۔ اسے بدخاشان والے صندلی کہتے ہیں اور مقامی طور پر اس کا نام منقل پڑ چکا ہے۔ یہ چیز چترال میں بہت تیزی سے رائج ہوا اور اب بہت کم کوئی گھر اس سے خالی ہے۔ صندلی سسٹم کی مدد سے شدید سردیوں میں کم ایندھن سے گزارا کرنا ممکن ہوا اور اس طرح ایندھن کی کافی بچت ہوئی۔

لسانی اثرات اثرات

چترال کی بڑی زبان کھوار اگرچہ بنیادی طور پر انڈو آرین ہے تاہم اس پر فارسی کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ یہ اثرات ماضی میں چترال اور بدخشان کے درمیاں طویل تاریخی رابطوں کا کا نتیجہ ہیں۔ بیسویں صدی میں بین الاقوامی حالات کے تبدیل ہونے سے چترال کے شمال سے رابطے منقطع ہو چکے تھے۔ افغان مہاجرین کی آمد نے ان رابطوں کو پھر سے بحال کر دیا۔ ان ربطوں کا یہاں کی زبانوں پر بھی اثر پڑا۔ چترال میں فارسی زبان جاننے والوں کی تعداد جو نہ ہونے کے برابر رہ چکی تھی، پھر سے بڑھنے لگی۔ مہاجرین کے ساتھ ملنے جلنے سے ان پڑھ مقامی لوگ بھی فارسی بولنے لگے۔ اس کے علاوہ فارسی کے بہت سے ایسے الفاظ کھوار کا حصہ بن گئے جو اس سے پہلے یہاں رائج نہیں تھے۔ دوسری طرف یہاں رہنے والے مہاجرین نے کھوار زبان سیکھی۔ خصوصاً ان کی نئی نسل جو یہاں پروان چڑھی، بالکل مقامی رنگ میں رنگ چکی ہے۔ یہ لوگ جب یہاں سے واپس گئے تو یہاں کی زبان کے اثرات اپنے وطن لے گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بدخشان اور نورستان میں آج کل کھوار بولنے اور سمجھنے والے کافی تعداد میں موجود ہیں۔

معاشی اثرات

اُس زمانے میں چترال کی آبادی بہت کم اور وسائل محدود تھے۔ اس وجہ سے کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مہاجرین میں تاجر اور ہنرمند لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنے پیشوں کا کام یہاں شروع کیا۔ باقی لوگوں نے محنت مزدوری کو اپنا یا اس طرح کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ اتنے لوگوں کا ایکدم اضافہ ہونے سے بھی کاروبار پر مثبت اثر پڑا۔ مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے بین القوامی ایجنسیوں نے کام شروع کیا اور ان کے ساتھ باہر سے پیسہ آیا۔ ان ایجنسیوں اور حکومت پاکستان کے کمشنر برائے مہاجرین میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں فراہم کی گئیں جس سے مقامی لوگوں میں بے روزگاری کم ہوئی۔

شروع میں افغانستان سے بڑی تعاد میں جانور چترال لائے گئے جس سے یہاں گوشت کی فراوانی ہوئی۔ جانوروں کی سپلائی کے ساتھ افغانوں نے یہاں قصاب کا کام شروع کیا۔ آج بھی چترال کے اندر قصاب اور سبزی فروشی کا کام زیادہ تر پنجشیری افغانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ ان لوگوں نے ان کاموں میں سخت محنت کر کے مقامی کاروبار میں اضافہ کیا۔

افغان مہاجرین کو اپنی موٹر گاڑیاں بغیر کسٹم ساتھ لانے کی اجازت مل گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ باہر سے افغانستان کے نام پر سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں منگوا کر انہیں پاکستانی کے سرحدی علاقوں میں بغیر کسٹم اور رجسٹریشن کے چلانے لگے۔ ان علاقوں میں چترال بھی شامل تھا اور یہاں نان کسٹم پید گاڑیوں کی بہت بڑی تعداد لائی گئی۔ اب یہ کام ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے اور بہت سے پاکستانی اس سے وابستہ ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے گاڑی خریدنا مکن ہوا۔ ان گاڑیوں میں ذاتی استعمال کی گاڑیوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور باربرداری کی گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

farid raza

Farid Ahmad Raza, President Mother-tongue Institute for Education and research (MIER) is a linguist and researcher, working on language promotion, documentation and multilingual education in Chitral
.He is Editor in-chief of a journal "Khowar Nama" for Khowar language
Email: farid.mier@gmail.com

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com