Trecking in chitral Back

ایک قدیم راستے پر سفر

شمس الدین
15.11.2022

پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کی وادیوں میں نقل و حمل کے ذرائع ہمیشہ سے مشکل اور مخدوش رہے ہیں۔ دریا کے ساتھ راستے اگرچہ نسبتاً ہموار ہوتے تھے لیکن گرمیوں میں دریا طعیانی پر ہوتے تو یہ راستے کٹ جاتے۔ پل بھی بیشتر عارضی ہوتے جو گرمیوں میں بہہ جاتے۔ ایسے میں ایک وادی سے دوسری وادی میں سفر پہاڑی دروں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی۔ یہ راستے اگرچہ اتنے آسان نہ تھے تا ہم سال کے بیشتر موسموں میں کھلے رہنے کے علاوہ نسبتاً مختصر بھی ہوتے تھے۔ جدید دور میں دریا کے ساتھ سڑکیں بننے اور ان پر موٹر گاڑیاں چلنے کی وجہ سے پہاڑی دروں سے آمد و رفت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ تاہم ٹریکنگ کے شوقین لوگ مہم جوئی کے طور پر ان راستوں پر کبھی کبھار سفر کرتے ہیں۔ ایسے راستوں میں سے ایک اپر چترال کی وادی اویر کو لٹکوہ کی وادی کریم آباد (اوژور) سے ملاتا ہے۔ یہ راستہ لوئر چترال اور اپر چترال کے درمیاں فاصلے کو بہت مختصر کرتا ہے ، اس لیے ماضی میں اس پر کافی آمد و رفت ہوتی تھی۔

15 مئی 2020 کو میں نےاسی راستے پر اپر چترال کے گاؤں کوشٹ سے ٹریکنک کا آغاز کیا۔ شونجورآن اور گہکیر سے ہوتے ہوئے شام کو لون پہنچا، جہاں فضل الرحمٰن صاحب کی میزبانی سے لطف اندوز ہوا۔ لون سے اگلی صبح روانہ ہو کر وادی اویر کے سب سے خوبصورت گاوں ریری پہنچا۔ یہاں ثناء احمد صاحب نے چائے کی دعوت دی۔ وہ میری طرح ستار کے شوقین نکلے اور ان کے ستار پر ہم دونوں نے طبع آزمائی کی۔ یہاں سے میں نے پہاڑی درے کی طرف چڑھنا شروع کیا۔ پہلے میرا ارادہ وادی اویر کے بالائی حصے میں پھوروشون درے (کیار آن)کے راستے براہ راست کریم آباد میں اترنا تھا لیکن یہاں معلوم ہوا کہ اس موسم میں برف کی کثرت کی وجہ سے یہ درہ ناقابل عبور ہوتا ہے۔ مجھے مشورہ دیا گیا کہ میں ریری گاؤں سے پھوریان ٹیک درے کے راستے پھستی کی وادی جاؤں اور وہاں سے وادی کے سرے واقع پر درے سے پارسان میں اتروں۔ یہ راستہ کیار آن کے مقابلے میں لمبا بھی ہے اور اس میں ایک کے بجائے دو درے عبور کرنے ہوتے ہیں۔ تاہم مجبوراً مجھے یہی راستہ اختیار کرنا پڑا۔ ریری کے بالائی چراگاہ کوٹوو غاری کی طرف روانہ ہوا تو گاؤں سے دو نوجوان مجھے راستہ دکھانے کافی دور تک میرے ساتھ گئے۔ کوٹوو غاری پہنچا تو وہاں دو اور نوجواں ٹریکر کیمپنگ کرتے ہوئے ملے۔ اتفاق سے ان کے پاس بھی ستار موجود تھا جسے کچھ دیر بجا کر جی ہلکا کیا۔ یہاں سے پھوریان ٹیک کی طرف روانہ ہوا۔ پھوریان ٹیک کی چوٹی پر سے جنوب مشرق کی طرف نہ صرف دور دور تک ہندوراج کی بلند چوٹیاں نظر آتی ہیں بلکہ نیچے وادی میں شاچار، جوگومی، جومیشیلی، برینس، پرئیت، مروئے اور موری کے دیہات ایک ہی نظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پھوریان ٹیک سے میں پھستی کی وادی میں اترا۔ یہ وادی اصل میں پرئیت نالے کی وادی کا اوپری حصہ ہے اور اس میں بہت اونچائی پر پھستی کا گاؤں آباد ہے۔ گاؤں سطح سمندر سے تقریباً 11000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ پھستی اسی گھرانوں پر مشتمل چھوٹی سی آبادی ہے۔ یہاں زندگی کی بنیادی سہولتیں عنقا ہیں۔ ایک پرائمری سکول ہے، سڑک کچی اور نہایت خطرناک ہے جو اکثر بند رہتی ہے۔ بجلی سے ابھی یہ لوگ نا آشناء ہیں۔ میں گاؤں کے زیریں حصے میں اترا تو وہاں بچے کھیل رہے تھے۔ ان سے گاؤں کے کسی معتبر کا پوچھا تو انہوں نے رحمت صاحب کا بتا دیا۔ ان کا گھر بلندی پر واقع تھا، وہاں پہنچا تو ان کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں رحمت صاحب بھی آگئے۔ میں نے رات ان کے ساتھ گزاری اور ان لوگوں نے میری بڑی عمدہ مہمان نوازی کی۔ اگلی صبح میں گوستینو ٹیک درے کی طرف روانہ ہوا۔ اوپر جاتے ہوئے کافی دور تک کھیت ہیں جن پر کسان ہل چلا رہے تھے۔ یہاں اس موسم میں گندم اور جو کی کاشت ہوتی ہے۔ ہر طرف ہریالی تھی اور بہت سہانا منظر تھا۔نیچے سے دیکھنے پر درے کی چوٹی پر کافی برف نظر آ رہی اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں راستہ زیادہ مشکل نہ ہو۔ تاہم جب اوپر پہنچا تو برف کی کثرت اور تقریباً 13000 فٹ کی بلندی کے باوجود درہ کافی آسان لگا اور میں بآسانی اس کو پار کر کے دوسری طرف پارسان وادی میں اترنے لگا۔

شام کے قریب میں پارسان گاؤں کے بالائی حدود میں پہنچا تو کچھ لوگ ملے جو نہر کی سالانہ صفائی کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھے چائے پیش کی۔ کچھ دیر ان سے بات چیت کرنے کے بعد میں اسی نہر کے کنارےچلتا ہوا کریم آباد کی طرف روانہ ہوا۔ میں مدیشال، اورولاغ اور پیتاگرام کے دیہات سے ہوتے ہوئے شام کے چھ بجے سوسوم پہنچا۔ یہاں میں محمد یعقوب صاحب کا مہمان بنا جن کے گھر میں بہترین سہولیات کے علاوہ خلوص اور مہمان نوازی کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔ اگلی صبح میں یعقوب صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں چترال شہر کو روانہ ہوا۔

ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لیے یہ ایک آئیڈیل پہاڑی ٹریک ہے۔ ٹریکنگ کا آغاز کوشٹ کے بجائے ریری سے کیا جائے تو راستے میں صرف ایک رات گزار کر کریم آباد پہنچا جاسکتا ہے۔

(بشکریہ: ششماہی مجلہ "کھوار" چترال)















shams ud din chitral

The Author

Shams ud Din is a Chitral based Writer, Educationist, Trekker and Sitar Player. He knows a lot about the Chitrali Music.
MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com