چترال میں اسلام کی آمد۔۔۔ گل مراد حسرت

<= Back to ARTICLES Page

چترال میں اسلام کی آمد

گل مراد خان حسرت


قبل از اسلام دور

اسلام سے پہلے اس علاقے میں جن مذاہب اور تہذیبوں کی موجودگی کا انکشاف اب تک ہوا ہے ان میں سے اولین کا تعلق قدیم آریاؤں سے ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ جیسے TUCCI ، STACUL ٗ احمد حسن دانی، اور ڈاکٹر احسان علی کے مطابق اس دور سے تعلق رکھنے والی جو قبریں چترال میں پرواک، سنگور اور اوچشٹ کے مقامات پر دریافت ہوئی ہیں، ان کا زمانہ ۲۵۰۰ اور ۱۰۰۰ قبل از مسیح کے درمیان ہے۔ اس تہذیب کو یہ ماہرین Gandhara Grave Culture کا نام دیتے ہیں۔ اور چترال میں دریافت شدہ آثار کو تین مختلف ادوار سے متعلق بتاتے ہیں۔ اس تہذیب سے تعلق رکھنے والوں کے مذہب کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مظاہر پرست تھے، یعنی سورج، پہاڑوں، دریاؤں، درختوں، اور آگ وغیرہ کی پرستش کرتے تھے۔ دیگر مظاہر پرستوں کی طرح آریہ بھی ہر اس چیز کو پوجتے تھے جو ان کے لیے مفید ثابت ہوتی تھی، خصوصاً زراعت کے لیے۔ تاہم اس علاقے میں آتش پرستی کے اثرات زیادہ ہیں کیونکہ ایران کے ہخامشی (Achemanian) خاندان کے عہد (۵۰۰ تا ۳۲۷ ق م) میں بادشاہ دارائے اول (Darius-I) نے اپنی فتوحات کا دائرہ چترال اور اس کے گرد و نواح تک وسیع کیا تھا۔ یاد رہے کہ ہخامشی دور میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھا جس میں آتش پرستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں ایرانی ثقافت کا ایک اور ورثہ جشن نوروز ہے۔ جو چترال کے بعض علاقوں میں منایا جاتا ہے۔ کوئی نصف صدی قبل اس تہوار کو فروری کے مہینے میں 'سال غریئک' یا "پتھاک" کے نام سے منانے کا رواج تھا۔ تاہم اب چترال کے اسماعیلی، دیگر علاقوں کے اسماعیلیوں کے ساتھ اسے نوروز کے نام سے ۲۱ مارچ کو مناتے ہیں۔

اگلا دور جس کے بارے میں کچھ شواہد ملتے ہیں، بدھ مت کا ہے۔ دوسری صدی عیسوی میں جب کنشک بادشاہ بنا تو اس نے بدھ مذہب کی سرپرستی کی۔ اس کے نتیجے میں اس کی سلطنت میں بدھ مت خوب پھیلا۔ اس کی سلطنت پشاور سے چینی ترکستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ شمالی پاکستان بشمول چترال اس سلطنت کا حصہ تھا۔ ۶۲۹ میں چینی سیاح ہیون سانگ یہاں سے ہو کر گندھارا کی طرف گیا۔ وہ اس پورے علاقے کو مستوج کا نام دینے ہیں۔ وہ کہتے ہیں "یہاں تمام فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔ گندم، دالوں اور انگوروں کی بہتات ہے۔ موسم سرد ہے ۔ لوگ تنومند، سچے اور کھرے ہیں۔ ان کی سوچ محدود ہوتی ہے اور یہ درمیانے درجے کے محنتی ہیں۔ زیادہ تر اونی کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ بادشاہ اور رعایا سب بدھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی رسوم کے زیادہ پابند تو نہیں لیکن عقائد میں مخلص ہیں۔ یہاں پر صرف دو خانقاہیں ہیں جن میں راہبوں کی ایک چھوٹی تعداد رہتی ہے۔ "

چترال میں رائین، چرون اور برینس کے مقامات پر اس دور سے تعلق رکھنے والے چٹانی کتبات ملتے ہیں، جن پر کھروشتی رسم الخط کی تحریروں کے ساتھ بدھ سٹوپا کی تصویریں کندہ ہیں۔ ان کتبات میں راجہ جے ورمن کا ذکر ملتا ہے۔ بدھ مذہب کا رواج اس علاقے میں تقریباً دسویں صدی عیسوی تک رہا اور اس کے بعد اسے زوال آنا شروع ہو گیا۔ اس زمانے میں لوگ واپس قدیم مظاہر پرستی کی طرف لوٹ گئے۔ عبدالحمید خاور کے مطابق اسلام کی آمد کے وقت گلگت اور چترال کے لوگوں کا مذہب نہ بدھ تھا اور نہ انہیں شیومت سے کوئی نسبت تھی۔ بلکہ قدیم آرین مظاہر پرستی اور اوہام پرستی کے طریقوں پر چل رہے تھے۔ یہی وہ عقاید ہیں جن پر آج کلاش لوگ کاربند ہیں۔

چترال میں جب اسلام آیا تو اس کا واسطہ کھو اور کلاش کلچروں سے پڑا۔ ان دونوں ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اس وقت اپنے قدیم کافر طریقوں پر چل رہے تھے۔ چترالی روایات میں ان دونوں ثقافتوں کو ملا کر کلاش دور کہا جاتا ہے۔ بالائی چترال میں ہمیں جا بجا کافر دور سے منسوب قلعوں اور دیہات کے نام ملتے ہیں۔ ریری اویر میں گاؤں کے اوپر ٹیلے پر کھنڈرات ہیں جن کے متعلق مقامی روایات ہیں کہ یہ کلاش سردار ژونگ کے قلعے کے ہیں۔ اور یہ کہ قلعے سے لے کر نیچے ندی تک ایک سرنگ بھی موجود تھی۔ لولیمی تریچ میں ایک گاؤں کا نام کلاشاندہ ہے اور سہرت موڑکھو میں ایک گاؤں کلاشاندور کہلاتا ہے۔ کلاش آبادی کے بارے میں سنوغر اور پرواک میں بھی روایات موجود ہیں۔ پرواک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کافر دور میں یہ ایک سر سبز خطہ تھا۔ روایت یہ ہے کہ پرواک تین بھائیوں کی ملکیت تھا۔ جن میں سے ایک جس کا نام دربتوشالی تھا، پرواک لشٹ میں مقیم تھا اور اس کے قلعے کے اثار یہیں ملتے ہیں۔ دوسرا جو سگ کہلاتا تھا نصر گول میں رہتا تھا اور اسی مناسبت سے یہ جگہ سگو لشٹ کہلاتا ہے۔ جبکہ تیسرے بھائی شپیر کی جائے رہایش زیریں پرواک تھی اور یہ علاقہ اب شپیرو لشٹ کہلاتا ہے۔

چترال میں کافر دور کے معاشرے کی ایک خصوصیت یہ رہی ہے کہ عورت کو آیام کے دوران آبادی سے دور ایک مکان میں رکھا جاتا تھا۔ اس مکان کو کھوار میں بشالینی کہتے ہیں جبکہ کلاش اسے بشالی کہتے ہیں۔ بالائی چترال میں کئی مقامات اب بھی بشالینی کہللاتے ہیں جیسے بونی میں دریا کے کنارے، پھار گام کوشٹ میں ندی کے کنارے، شوتخار میں ٹیلے کے اوپر اور تریچ میں دریا کنارے۔ کسی زمانے میں ان جگہوں پر بشالینی موجود ہوں گے، لیکن اب صرف ان کے بام باقی رہ گئے ہیں۔

بالائی چترال کی روایات میں ایک حکمران سوملک کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنی موت کی خیرات دی، جس کا سلسلہ سات دن تک جاری رہا۔ یاد رہے کہ کلاش اور قبل اسلام کے کھو معاشروں میں موت کے خیرات کی بہت اہمیت ہے۔

چترال پر لشکر اسلام کا حملہ

ساتویں اور آٹھویں صدی میں چترال اور اس کے ارد گرد کے علاقے چینی سلطنت کا حصہ تھے۔ ۷۵۱ ء میں چینیوں اور مسلمانوں کے درمیاں فیصلہ کن جنگ کے نتیجے میں ان علاقوں پر سے چینی اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد تبتیوں نے آگے بڑھ کر ان علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تبتیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی روک تھام کے لیے خلیفہ ہارون رشید (۸۱۳-۸۳۳) کے دور میں تبت کی تسخیر کے لیے مہم روانہ کی گئی۔ شاہ کابل کے تخت کے کتبے پر پر درج ہے کہ "امام نے سبز علم کو ذوالریاستین کے ہاتھوں کشمیر اور تبت کے علاقوں میں لہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بوخان (واخان)، بلور، جبل خاقان، اور جبل تبت میں فتح سے ہمکنار کیا۔ اس زمانے میں چترال اور اس کے ارد گرد کے علاقے بلور کہلاتے تھے۔

جیسا کہ مذکور ہوا ہے کہ اس حملے کا اصل مقصد تبت اور اس کے مقبوضات کی فتح تھی، اس لیے اسلامی لشکر نے اسلام کی اشاعت کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا ہو گا۔ چترال میں کوئی ایسا خاندان نہیں جس کی روایات میں ہو کہ وہ اس حملے کے نتیجے میں مسلمان ہوئے تھے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس طرح کے علاقوں کو فتح کرنے کے بعد مسلمان ان کو باجگزار کر کے چھور دیتے تھے اور وہاں ٹھہر کر اسلامی سلطنت کے قیام میں دلچسپی نہیں لیتے۔

چترال میں اسلام کی آمد

مغلوں اور ترکوں کی تاریخ "تاریخ رشیدی کے مطابق خان اف کاشغر سلطان سعید خان کے دور میں تاریخ رشیدی کا مصنف میرزا حیدر دوغلات راشد خان کے ھمراہ 1527ء کو بلور پر حملہ کیا تو وہ چشم دید گواہ کے طور پر اس سارے علاقے کو کفر میں ڈوبا ہوا پایا اور اسے کافرستان کا نام دیا اوراس کو یہاں ایک شخص بھی مسلمان نہیں ملا اس وقت چترال اور اس پاس کے علاقوں کو بلور کہا جاتا تھا Bertold تاریخ کاشغر اور بحر ا لاسرار کے حوالے سے لکھتا ھے کہ اس کے بعد کاشغر کی طرف سے بلور پر دو اور حملے کئے گئے پہلے حملے میں کامیابی نہ ہوئ جبکہ 1540 کے بعد دوسرے حملے میں بلور فتح ہوا اور باقاعدہ فوجی اور انتظامی عہدے مقرر کئے گئے اور چترال کاشغر کا حصہ بنا اسی عہد کے ھندوستانی اور افغان مورخین نے چترال کو کاشغر کے نام سے منسوب کیا چنانچہ تذکرۃ الابرار میں ہے کہ "خان کاجو کی نقل و حرکت کی خبر سن کر قزن شاہ کاشغر کی طرف چلا گیا۔ یہ ملک سوات کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ وہاں کا حکمران طبقہ ترکی بولنے والے سنی مسلمانوں اور رعایا کفار پر مشتمل ہے." اس سے معلوم ہوتا ھے کہ اولین اسلام چترال میں کاشغر کی طرف سے ایا یہ حکمران سننی مسلک کے پیرو کار تھے انہوں نے بدخشاں اور بخارا سے علماء طلب کرکے یہاں کے نو مسلموں کی تعلیم تربیت پر مقرر کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ رفتہ رفتہ اسلام پھیلتا گیا

چترال میں اسماعیلی مذہب

چترال میں اسماعیلی مسلک کے آغاز کو پیر ناصر خسرو سے منسوب ھے چسے عام طور پر پیر شاہ ناصر کہہ کر یاد کیا جاتا ھے شروغ میں شاہ ناصر سلجوق دربار میں دبیر کا عہدہ رکھتا تھا اسے سیاحت کا شوق تھا اس کئے وہ وہ ملازمت چھوڑ کر سیاحت کے لئے نکلا اور مکہ پہنچ کر حج ادا کیا اس کے بعد وہ مصر چلا گیا جہاں اس کی ملاقات فاطمی خلیفہ مستنصر با اللہ سے ہوئ اور اس کی طرف سے حجت خراسان مقرر ہوکر جب واپس آیا تو سننی حکمران اور علماء اس کے خلاف ہوئے چنانچہ وہ بلخ سے ہجرت کرکے یمگان کے ایک درے میں روپوش ہوا اور وہاں سسے خفیہ طور پر اسماعیلی تحریک کو جاری رکھا روایت کے مطابق انہوں نے لٹکہوہ کا سفر اختیار کیا تھا لیکن اس سفر کی تصدیق اس کے سفر نامے سے نہیں ہوتی پیر شاہ ناصرنے داعیوں کی جماعت تیار کی اور ان کو مختلف مقامات کی طرف روانہ کیا داعیوں کا یہ سلسلہ شاہ ناصر کی وفات کے بعد بھی پیروں کی صورت میں جاری رہا اور چترال میں انہی پیروں کی دعوت پر لوگ اسماعیلی مذہب میں داخل ہوتے گئے یہ پیر رئیس اول کے عہد کے بعد چترال کی طرف آئے ہیں اور ان کی دعوت پر زیادہ تر بیار اور لٹکہوہ کے لوگوں نے اسماعیلی مذہب کو اختیار کیا شاہ ناصر خسرو یمگان میں فوت ہوئے اور وہیں مدفوں ہوئے آپ سے منسوب ہوکر درہ یمگان حضرت سعید کہلاتا ھے جو حکیم ناصر خسرو (جنہیں یہاں پیر شاہ ناصر کہا جاتا ہے) سے منسوب ہے۔ اس طریقے میں امام کے نائبین پیر اور ان کے نائبین خلیفہ کہلاتے ہیں جو عموماً سید نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ناصر خسرو گیارہویں صدی عیسوی میں بدخشان کے درہ یمگان میں آکر مقیم ہوئے اور باقی ساری زندگی یہیں روپوشی میں گزاری۔ چترال کے اسماعیلیوں میں یہ روایت ہے کہ وہ چترال کے علاقے گرم چشمہ بھی آئے۔ اس جگہ ایک زیارت گاہ بھی ان سے منسوب ہے۔ لیکن ان کے سفر نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ قیام یمگان کے دوران انہوں نے ارد گرد کے علاقوں میں دعوت کا ایک سلسلہ قائم کیا اور مختلف علاقوں میں داعی بھیجے۔ ان داعیوں کا سلسلہ نسل در نسل آگے چلا۔ اور چترال میں انہی داعیوں کی دعوت پر لوگ اسماعیلی مذہب میںاخلہوتے گئیے یہ داعی رئیس اول کے عہد کے بعد ہی چترال کی طرف آئے ہیں اور ان کی دعوت پر بیار اور لٹکہوہ کے لوگوں نے اسماعیلی مذہب اختیار کیا شاہ ناصر یمگان میں فوت ہوئے آپ سے منسوب ہوکر یہ درہ حضرت سعید کہلاتا ھے۔

MAHRAKA.COM
A Website on the Culture, History and Languages of Chitral.
Contact: mahraka.mail@gmail.com